آ پ کے خواب اور تعبیر :
اچھا خواب نعمت خداوندی :
حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ـــــــــــــــ’’ بشارتوں کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ صحا بہ نے عرض کیا حضور سید عالم ﷺ
بشارتوں سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا سچا خواب :
بخا ری ومسلم کی متفق علیہ حدیث ہے آ نحضرت ﷺ نے اور فرمایا کہ سچا خواب نبوت کا چھیا لیسواں حصّہ ہے۔ ( صیح بخاری عن ابی ھریرہ)
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ سچا خواب علوم نبوت کا ایک جز ہے اور علم نبوت باقی ہے۔ کو انبیاء کرام کی آمد کا سلسلہ موقوف ہو چکا۔رویائے صالحہ دوسرے لفظو ں میں خواب علوم نبوی کا عکس ہے۔
خواب کی اقسام:
امام محمد بن سرین ارشاد فرماتے ہیں کے خواب تین قسم کے ہوتے ہیں ۔
۱۔ مبشراب خداوندی
۲۔تخو لف شیطان ( شیطان کے زیر اثر)
۳۔ حدیث نفس (یعنی ذہنی اور دماغی خیالات کا عکس )
اس تقسیم سے ظاہر کہ خواب کے تمام اقسام صیح، قابل تعبیر اور درخور اعناء نیس ہوتے۔ تعبیر اور اعتبار کے لائق وہی خواب ہوتے ہیں جو حق تعالیٰ کی طرف سے بشارات واعلام پر مبنی ہوں۔
خواب میں شیطانی تعرف :

ارشاد نبوی ہے کہ اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور برُا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ایک اور حدیث سید نا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی بُرا خواب دیکھے تو تین مریبہ بائیں طرف تف کر کے شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگے اور اس کروٹ کو بدل ڈالے جس پر خواب دیکھا تھا۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ بُرے خواب شیطانی اثر سے ہوتے ہیں ۔ مثلاً احتلام بھی شیطانی اثر سے ہوتا ہے اس سے اسکی غرض یہ ہوتی ہر کہ مومن کو غسل و طہارت کی زحمت میں ڈال کر نماز فجر سے محروم کرے۔ شیطان ہر صورت اختیار کر سکتا ہے لیکن حضور سید عالم کی حقیقت اور وضع اختیار کر سکتا آپ ﷺ ارشاد فرمایا :
ـ’’من رَاٰ نیِ فیِ الَمنِام فَقَدْ رَاٰنیِ فِانّ ا لشَیطان لا یتمُثلْ فی صُور تیِ۔
ترجمہ :
جس نے خواب میںمجھے دیکھا اس نے فی الواقعے مجھے دیکھا کیونکہ شیطان کی یہ مجال نہیں کہ وہ کسی کے خواب میں میری صورت میں ظاہر ہو۔
علم تعبیر:
علم کی تعبیر کی تعریف ـ: علم تعبیر وہ علم ہے جس میں خوابوں کی تعبیر کے اصول و قواعد بیان کئے جائیں تاکہ خواب کی تعبیر صیح صیح معلوم کی جا سکے اور تعبیر غلط دنے سے انسان محفوظ رہے۔
علم تعبیر کے موجد:
علم تعبیر کے موجد اور واضح حضرت یوسف علیہ السلام جن کو سب سے پہلے یہ علم خدائے تعالیٰ کی طرف سے عطاء ہوا انھوں نے اسکو دنیا میں عروج کیا ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

ترجمہ :
’’اے یوسف اسی طرح تیرا رب تجھے برگریدہ بنائے گا ‘‘۔
اور تجھے علم تعبیر خواب عطاء فرمائے گا ۔اس آیت کر یمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام سے علم تعبیر خواب عطاء فرمانے کا وعدہ فرمایا اور پھر یہ وعدہ پورا بھی فرمایا دیا اور حضرت یوسف علیہ السلام نے ان الفاظ میں اظہار تشکر فرمایا :
ترجمہ:
اے میرے پروردگار تو نے مجھے سلطنت بھی عطاء فرمائی اور علم تعبیر خواب بھی عطاء فرمایا ہے
(تعبیر والردیا)
علم تعبیر کے چھ مشہور امام :
علم تعبیر میں درج ذیل چھ آئمہ کرام کے اقوال کو بطور سند پیش کیا جا تا ہے۔
۱۔ حضرت دانیال علیہ اسلام
۲۔ حضرت امام جعفر صاد ق رضی اللہ عنہ
۳۔حضرت امام محمد سرین رحمۃ عنہ
۴۔حضرت امام جابر مغربی رضی اللہ عنہ
۵۔حضرت امام اباھیم کرمانی علیہ ارحمہ
۶۔ حضرت امام اسماعیل بن ا شفت رحمۃ

تعبیر بیان کرنے کے لیے ضروری علوم :
۱۔ علم تفسیر
۲۔ علم حدیث
۳۔ علم ضرب الامثال
۴۔ اشعار عرب
۵۔نوادر
۶۔ علم ا شتقاق (صرف)
۷۔ علم لغات
۸۔ علم الفاظ متداولہ
چنانچہ ایسے علما وہی تعبیر کرنے کے اہل میں جوان علوم کے ماہر اور متقی پر ہیزگار بھی ہوں ( تعبیر الرویا)
کن لوگوں سے تعبیر خواب پوچھنا منع ہے:
حضر ت امام جعفر صادق فرماتے ہیں چار قسم کے لوگوں سے تعبیر خواب پوچھنا منع ہے۔
۱۔بے دین لوگوں سے جو شریعت کے پابند نہ ہوں
۲۔ عورتوں سے کیونکہ یہ نا قص العقل ہیں
۳۔جاہلوں سے جو دینی علوم سے واقف نہ ہو ں
۴۔ دشمنوں سے کیونکہ دشمن خیرو برکت سے خالی ہوتے ہیں۔

معبر میں کن شرائط و آداب کا پایا جانا ضروری ہے:
حضرت امام ابن سرین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ معبر یعنی تعبیر بتانے والے کے لیے عا لم دین ہو نے کے علاوہ ان باتوں کا پا بند ہو نا ضروری ہے کہ لوگوں کے اطوارے فضائل عادات اور احوال کو خوب پہچا نتا ہو۔ اللہ تعا لیٰ سے ہمیشہ تو فیق طلب کرتا ہو اور دعا مانگتا رہے کہ اللہ تعا لیٰ اسکی زبان اچھی اور نیک بات جاری کرے اور گناہوں سے بچتا رہے۔لقمئہ حرام سے بچتا رہے اور بیہود ہ باتیں کرنے اور سننے سے دور رہے۔اور’’ اَلُعَلَمائُ وَرَثَۃُالانبیا‘‘ کا مصداق بن جا ئے ۔
ُ جہلاء سے تعبیر پوچھنا :
حضرت علامہ کرمانی علیہ الرحمۃ فر ماتے ہیں کہ دانا لوگوں کا کہنا ہے کہ جاہل کے پا س خواب بیان نہیں کرنا چاہیے اور جاہل سے تعبیر بھی نہ پوچھی جائے۔ لوگوں کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اگر جاہل سے تعبیر پوچھی جائے تو جو کچھ وہ کہہ دے گا اسی طرح سے ہو جائے گا۔ کو نکہ خواب کا نمائندہ فرشتہ ہے وہ ہر گز خطا نہیں کرتا اور جو کچھ کہتا ہے حق ہوتا ہے۔ نادان کے غلط تعبیر دنیے سے حق با طل نہیں ہو سکتا ۔ عالم اور جاہل میں بہت فرق ہے ۔ چنانچہ قرآن حکیم میں ہے:
قَل ھُلْ یِستوی الّذِ یِنَ یَعلُمِو نَ والّذِ یِنَ لا لعمون ۔
ترجمہ :’’ان سے فرمادیجیے کہ کیا علم والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں ‘‘
اور آ نحضرت ﷺ نے فرمایا :
’’لَا یَستوِی اَلَعالِمْ والْجُا ھِلْـ‘‘
ترجمہ:’’ عالماور جاہل برابر نہیں ہیں ‘‘

جو نکہ خواب کو طاہر کرنے والا فرشتہ ہے جو لوح محفوظ سے بتا تا ہے کہ خیر پہنچے گئی یا پھر اگر عالم یا جاہل اسے پھیر نا چاہیں تو ہونے والی چیز ہو کر رہے گی۔
تعبیر الرؤ یا ( خواب کی تعبیر )
خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لیے با وضو ہو کر فون کریں خواب پورا بیان کریں ، اپنا نام مع والدہ ، شہر اور جگہ کا نام اور خواب کس وقت دیکھا دن اور تاریخ کے ساتھ بیان فرمائیں اور خواب کی تعبیر جانئے۔