استخارہ کی فضیلت اور اہمیت:
حدیث مبارکہ میں ہے کہ اللہ سے استخارہ کرنا مطلب رب سے مشورہ کرنا اولاد آدم کی خوش بختی ہے اور اللہ سے استخارہ نہ کرنا اس کی بد بختی ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ترجمہ: نقصان نہیں اٹھاتا وہ شخص جو استخارہ کرتا ہے اور پشیمان نہیں ہوتا جو کوئی مشورہ کر لیتا ہے اور بعض احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ ’’ من سعادۃابن ادم الر ضائُ با لقضاء ‘‘ ترجمہ: ابن آدم کی سعادت مندی مرضی الٰہی پر راضی ہونا ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ ہم کو تمام کاموں میں استخارہ کی تعلیم (اس تاکید سے) فرماتے تھے۔ جیسا کہ قرآن کی سورۃ (اہتمام) کے ساتھ سکھلاتے تھے۔ فرماتے کہ جب کسی کو کسی کام میں فکر (تردد) ہو تو دو رکعتیں نفل پڑھے اور دعائے استخارہ پڑھ کر اپنے رب سے مشورہ کرے۔
آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے کسی کام کے لیے استخارہ کیا اور اس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی فیصلہ کر دیا۔ (مثلاً وہ مقصود پورا کر دیا یا اس سے دل ہٹا دیا یا ایسے اسباب بنائے جس سے وہ معاملہ خود ہی ہٹ گیا) اور بندہ اس فیصلہ سے راضی نہ ہو تو یہ ان کے لیے جائز نہیں ہے۔ (یعنی بڑا گناہ ہے) جس سے توبہ کرنا اور باز آنا واجب ہے۔