َ نحْمُدُہُ وَ نُصَلِّیْ عَلیَٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم
اَمَّابَعْد فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ ُ

یضِلُّ بِہِ کَثَیْرًا وَّ یَھْدِیْ بِہِ کَثَیْرَا۔

قرآن سے متعلق حضور اکرم سرور کائنات ﷺ نے فرمایا:

 

‘‘میں اپنے بعد دو چیزیں تم میں چھوڑے جارہاہوں ایک قرآن اور دوسرا اپنی اہل بیت پس ان کو تھامے رکھنا اور تفرقے میں نہ پڑھنا‘‘

حضور اکرم ﷺ نے بھی قرآن کا ذکر پہلے کیا اور راہِ ہدایت کا ذریعہ قرار دیا۔
تو میں اپنے تمام ناظرین اور امت مسلمہ سے بھی یہ ہی درخواست کروں گا کہ خدارا اپنے مسائل کا حل کلام اللہ سے ہی حل کریں اور اس کا دامن نہ چھوڑیں ۔ اسی میں ہماری بہتری اور فلاح ہے۔

محترم و مکرم قارئین و سائلین آپ کے مسائل کو سمجھتے ہوئے روحا نی وظائف سینٹر پیشِ خدمت ہے۔ آج کے اس پرفتن دور میں جہاں پر جعلی عاملین و مذہبی نام نہاد پیران کی یلغار ہے خود کو اور اپنے عقائد و ایمان کو محفوظ رکھنا بہت غنیمت ہے۔ دعا ہے ا للہ کریم سے ہم سب پر اپنا خاص رحم و کرم فرمائے۔ جس آیتِ مبارکہ میں موضوع بتایا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ قرآن پاک کو پڑھ کر بہت سے لوگ گمراہ ہو گئے۔ اور بہت ساروں نے ہدایت حاصل کی۔ فی زمانہ لوگ قرآن پاک کے غلط استعمال سے گمراہ ہوتے رہے اور اللہ پاک کے نیک بندے ہمیشہ ’’عُلَمَا ءِ اُمَّتِیْ کَاَ مْبِیَآءِ بَنِیْ اِسْرَاْءِیْل ‘‘ کافریضہ نبھاتے رہے اور تا قیامت نبھاتے رہیں گے۔

 انشا ء اللہ تعالیٰ جعلی عامل اور دھوکہ باز پیر ہمارے معاشرے کے لیے سوہان روح بلکہ اذیت ناک ناسور بنے ہوئے ہیں جنھوں نے بے شمار زندگیوں کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔ یہ بے رحم اور سفاک مجرم، معصوم انسانوں کو اپنے پھندے میں پھانس کر ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور انہیں طرح طرح سے لوٹتے ہیں ۔ ان ظالموں کا سب سے بڑا شکار خواتین بنتی ہیں جو بعض اوقات دولتِ دنیا سے ہی نہیں بلکہ گوھرِ عصمت سے بھی محروم ہو جاتی ہیں۔ میں چند ایسے شیطان صفت لوگوں کو جانتا ہوں جن کا ذکر میں ضروری سمجھتاہوں۔ وہ کسی کی ویب سائیڈ پر کام کر کے آج خودویب سائیڈ چلا رہے ہیں اور پورے ورلڈ پر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اور نہ جانے کیسے کیسے خود ساختہ عمل تجویز کرتے ہیں اور اپنے پیٹ کو جہنم کی آگ سے بھر رہے ہیں۔
چند سال قبل گورنر پنجاب (پاکستان) کی ہدایت پر ان جعلی عاملوں کے خلاف کریک

 ڈاؤن کیا گیا تھا لیکن عوام کی طرف سے زبردست خراجِ تحسین کے باوجود پتہ نہیں کیوں یہ کریک ڈاؤن اچانک ختم کر دیا گیااور اب پھر پہلے جیسے حالات ہیں جعلی عامل کھلے عام اپنے مکروہ کاروبار میں مصروف ہیں اگرچہ گورنر اور حکومت تو اب بھی موجود ہے مگر ان جعلی پیروں کے خلاف ایکشن لینے والا کوئی نہیں ۔ کیا گورنر اور اس کے ساتھی بتائیں گے کہ جادو کا شیطانی کاروبار کرنیوالے اپنے مکروہ کاروبار سے تائب ہو گئے ہیں؟ جو انہیں عافیت بخش دی گئی۔ حکومت کی عدمِ توجہی کے سبب ہم سب کو اپنی مدد آپ کے تحت اپنا خیال رکھنا پڑے گا۔ کسی بھی عامل سے رابطہ کرتے وقت اس کی علمی و مذہبی پہچان کرلیں کہ کم از کم اسے قرآن پاک تلفظ و مخارج کے ساتھ پڑھنا آتا ہے اور کیا وضو، غسل اور نماز کے کم از کم فرائض بھی اسے پتہ ہے؟ یا صرف خود کو مذہبی پیشوا ظاہر کرتا ہے کیاا سے شش کلمے بھی آتے ہیں ؟ ایسی چند باتوں سے ہی ہم ایسے لوگوں کی وسعتِ علمی کو پہچان سکتے ہیں۔ جو خود دعاؤں اور ہدایت کا محتاج ہے وہ کسی کے لیے کیا مشعلِ راہ ہو گا۔ گزارش ہے ایسے لوگوں سے خود کو اور اپنے ساتھ منسلک لوگوں کو بھی محفوظ رکھیں۔ اور ان کی شیطانیت میں خود کو نہ ڈالیں۔ جب ہمیں ہمارے ہر مسئلے کا حل قرآن کریم سے ملتا ہے تو پھر ان لوگوں کا سوچنا بھی فضول ہے۔ لہٰذا خود کو اور خود کے ساتھ ساتھ اپنے اعزو اقارب اور قریبی لوگوں کو بھی محفوظ رکھیں اور سب سے بڑھ کر ایسے لوگوں سے خود کو بچا کراپناایمان بھی محفوظ رکھیں۔ میں دنیا بھر میں امتِ مسلمہ کے دکھی بہن بھائیوں کو کھلے عام دعوت دیتا ہوں ! آئیے کہ اس لاریب کتاب سے جانیے کہ اس کے ایک ایک لفظ میں کتنے کتنے مسائل کا حل موجود ہے۔وہ لوگ جو دنیا بھر میں مہلک ترین بیماریوں میں مبتلا ہیں جنکو ڈاکٹرز نے لاعلاج قرار دے دیا ہے وہ آئیں اور قرآن پاک کے کرشمات سے فیوض و برکات حاصل کریں۔ میں ایسے لاعلاج اور غمزدہ لوگوں کو ان کے نام اور بیماری کے مطابق قرآن پاک سے وظائف لکھ کر دیتا ہوں اور اس کی برکات کو دیکھیں کہ کیسے آپ کو اس سے شفا نصیب ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں نسبتاً بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی فضل و کرم سے نوازتا ہے۔ مثلاً پائلٹ، وزراء ، جرنیل اور اعلی عہدیداران وغیرہ جن کے ساتھ ہزاروں زندگیاں جڑی ہوتی ہیں ایسے لوگوں کے لیے مخصوص لوح اور و ظائف مشتق کیے جاتے ہیں ۔

کوئی بھی سوال پوچھیں

آپ کا جواب تلاش


  • قیامت کے دن پر یقین

    ایک مسلمان کے عقیدہ قیامت ناگزیر ہے کہ ہے کے لئے ہے اور یہ پہنچ جانے کے بعد، تمام لوگوں کو ان کے اعمال جو انہوں نے اس دنیا میں مصروف عمل کے لئے جوابدہ منعقد کیا جائے گا.

  • قسمت میں یقین

    ایک مسلمان بھی انسانی طاقت اور سمجھ سے باہر ہیں اور تقدیر یا ایمان کے عناصر کے طور پر شمار کیا جانا چاہئے کہ کچھ چیزیں ہیں کہ یقین کرنا ضروری ہے.

  • قیامت میں یقین

    ایک مسلمان کی موت کے بعد زندگی ہے کہ یقین کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی شخص مر جاتا ہے ایک بار، وہ یا وہ جی اٹھے گا اور زندگی کے بعد ایک شخص کو دیا جائے گا کہ کوئی اختتام کے ساتھ ابدی زندگی ہو جائے گا

اسلام کو سمجھیں

  • اللہ پر ایمان

    سب سے پہلے ایک مسلمان کو اس کائنات کے رب کے طور پر خدا پر یقین کرنے کے لئے ہے اور اس میں جو کچھ بھی ہے.

  • فرشتوں پر ایمان

    دوم، ایک مسلمان اللہ تعالی کی تخلیق کے طور پر فرشتوں میں یقین کرنے کے لئے ہے.

  • انبیاء پر ایمان

    محمد (ص) کے علاوہ کسی مسلمان کو اللہ تعالی نے بھیجا ہے کہ دیگر تمام انبیاء پر ایمان رکھنے کا ہے.

  • الہی کتب میں یقین

    دیگر انبیاء کی طرح، ایک مسلمان دیگر تمام کتابوں کو ان کی قوموں کی رہنمائی کے لئے ان لوگوں کو انبیاء کی طرف وحی کیا گیا ہے کہ میں یقین کرنے کے لئے ہے

ہماری مدد کریں

مفت ڈسپنسری چلانے میں

2500 $ میں سے 1370 $ جمع ہو چکے ہیں Donate Now

مسقط سے عمران یوسف

حافظ صاحب محترم مجھےمسقط سے عمران یوسف ہوں. میں نے گزشتہ 20 سال کے لئے مصیبت کا سامنا کر دیا گیا ہے. پھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی ویب سائٹ کا دورہ کیا. میں تمہیں پھر میں مسلسل تین روز تک تمہیں خواب میں دیکھا کہ ایسا نہیں کیا رابطہ کرنے کے بارے میں سوچا.

لاہور سے ثناء ناز

شادی میں رکاوٹ میں تمہارا علاج .الحَمْد لله اب میں ایک اچھی جگہ میں مصروف ہو گئی ہے کی طرف سے حل کیا جاتا ہے کہ گزشتہ 13 سال سے درپیش کہ میرے مسائل ہمسر. آپ میں آپ کے لئے کیا دعا کریں. آپ کی ہر مصیبت اللہ کی قسم میں نرمی کی جا سکتی ہے اگر آپ کو لمبی عمر دے (آمین)

لندن سے مہوش اقبال

محترم حافظ صاحب، آپ کیسے ہیں؟ پرامید آپ ٹھیک ہو جائے گا. الحَمْد لله میری بیٹی پوری طرح سے ٹھیک کر رہا ہے. اب میں میڈیکل ڈاکٹر سے علاج اس کے حاصل کرنے کے تک گیا تھا اور ٹوٹ گیا تھا. زندگی کے پورے بچت خرچ کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد ڈاکٹروں نے مایوس حاصل کرنے کے بارے میں تھے. کہ مشکل وقت بھائی (ناروے سے) میں نے مجھے اپنا نمبر دے