بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
نماز کا بیان
ایمان و تصیح عقائد مطابق مذہب اہل سنت و جماعت کے بعد ۔ بعد نماز تمام فرائض میں نہایت اسم و اعظم سے قرآن مجید و احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی اہمیت سے مالا مال ہیں۔ جابجا اس کی تاکید اور اس کے تارکین پر وعید فرمائی۔
چند ایک آیت اور حدیث ذکر کی جاتی ہیں کہ مسلمان اپنے رب عزوجل اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات سنیں اور اسکی توفیق سے ان پر عمل کریں۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے
اقیمو الصلوٰۃ واتو الزکوٰۃ وارکعو امع الرکعین
نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والے کے ساتھ رکوع کرو۔
نماز کی اہمیت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ عزوجل نے سب احکام اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زمین پر بھیجے، جب نماز فرض کرنی منظور ہوئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس عرش عظیم پر بلا کر اسے فرض کیا اور شب اسرار میں تحفہ دیا۔
احادیث
1۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر سے ۔ اس امر کی شہادت دینا کہ اللہ کے سواکوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا۔
2۔ امام احمد ونسائی و ابن ماجہ نے ابو ایوب انصاری و عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے وضو کیا جیسا حکم سے اور نماز پڑھی جیسی نما زکا حکم ہے تو جو کچھ پہلے کیا ہے معاف ہوگیا۔
نماز کے اوقات کا بیان
1۔ وقت فجر۔ طلوع صبح صادق سے آفتاب کی کرن چمکنے تک ہے
2۔ وقت ظہر و جمعہ آفتاب ڈھلنے سے اس وقت تک ہے ، کہ ہر چیز کا سایہ علاوہ سایہ اصلی کے دو چند سمجھائے ۔
3۔ وقت عصر: وقت ظہر کے ختم ہونے کے بعد سے آفتاب ڈوبنے تک ہے۔
4۔ وقت مغرب : غروب آفتاب سے نروب شفق تک ہے۔
5۔ وقت عشاء و وتر : غروب شفق سے طلوع فجر تک ہے۔