زکوٰۃ کا بیان
اللہ عزوجل فرماتا ہے
ومما رزقنھم ینفقون
اور متقی وہ ہیں کہ ہم نے جو انہیں دیا ہے ۔ اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں
والذین ھم للزکوٰۃ فعلون
اور فلاح وہ پاتے ہیں جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں
احادیث
1۔ طبرانی نے اوسط میں بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو قوم زکوٰۃ نہ دے گی اللہ تعالیٰ اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔
2۔ احمد کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یوں ہے ۔ جس مال کی زکوٰۃ نہیں دی گئی قیامت کے دن وہ گنجا سانپ ہوگا مالک کو دوڑائے گا۔ وہ بھاگے گا یہاں تک کہ اپنی انگلیاں اس کے منہ میں ڈال دے گا۔
3۔ نہارنے علیہ سے روایت کی ، کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو ۔
4۔ طبرانی نے اوسط میں فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ خشکی و تری میں جو مال تلف ہوتاہے ۔ وہ زکوٰۃ نہ دینے سے تلف ہوتاہے۔
زکوٰۃ واجب سے آزاد بالغ عاقل مسلمان پہ جب وہ مال ہونصاب کا اور اس مال پر ایک سال گزر جائے ۔ بچے ، مجنون ، مکاتب ، پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ رہائشی گھروں استعمال والوں کپڑے سواری کے جانور خدمت کے غلام اور استعمال میں آنے والے اسلحہ پر زکوٰۃ نہیں ۔ نیت ضروری ہے ادائیگی زکوٰۃ کے وقت۔ مال زکوٰہ کو علیحدہ کرتے وقت نیت کی جائے۔
اونٹوں کی زکوٰۃ
پانچ اونٹوں سے کم پر زکوٰۃ نہیں جب پانچ اونٹ سائمہ ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان پر ایک بکری سے زکوٰۃ میں نو تک سائمہ : وہ جانور جو سال کا اکثر حصہ باہر چل کر گزارا کرے اور اگر سال کا آدھ یا اکثر حصے میں خوراک ڈالی گئی تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ گائے کی زکوٰۃ
تیس گائیں سے کم زکوٰۃ نہیں۔ جب تیس گائیں سائمہ ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو اس میں ایک سال کا بچھڑا ہے اگر چالیس ہوں تو ایک دوسال کا بچھڑا۔
بکری کی زکوٰۃ
چالیس بکریوں سے کم زکوٰۃ نہیں۔ جب چالیس بکریاں سائمہ ہوں ۔ ایک سال ان پر گزر جائے توا س میں ایک بکری سے ایک سو بیس تک۔
چاندی کا نصاب
دوسو درھم سے کم زکوٰۃ نہیںَ جب چاندی کی مقدار دو سو درھم ہو اور ایک سال اس پر گزر جائے تو اس میں پانچ درھم زکوٰۃ ہے۔
سونے کا نصاب
سونے کے بیس مثقال سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔ جب سونے کے بیس مثقالہوں اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں آدھ مثقال ہے۔
سامان پر بھی زکوٰۃ واجب
سامان پر زکوٰۃ واجب ہے جب سامان کی قیمت نصاب کو پہنچ جائے۔
مصارف زکوٰۃ
فقراء ۔ مساکین۔ عاملین ۔ قرض دار۔ مسافر۔ مجاہد ۔ رقاب
زکوٰہ کے مال سے مسجد نہیں تعمیر کی جائے گی اور میت کو کفن نہیں دیا جائے گا اور غلام بھی آزاد نہیں کیا جائے گا۔