روحانیت اور اکتساب کے طریقے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال اللہ تعالیٰ قل الروح من امرربی ، وفی انفسکم افلا تبصرون ۔ صدق اللہ وصدق رسولہ النبی الکریم الامین ۔
اعتبار اوّل سے روح اور اسکی حقیقت:
جاننا چاہئے کہ ہر انسان روح اور جسم سے مرکب ہے۔ جب تک انسان کی روح اس کے جسم میں موجود رہتی ہے۔ اُس وقت تک انسان زندہ سمجھا جاتا ہے اور جونہی یہ روح اپنے مادی جسم کو چھوڑتی ہے تو وہ شخص مردہ کہلاتاہے روح کیا شے ہے؟ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے صرف یہ کہہ کر کہ یہ امر ربی ہے۔ اس موضوع پر غور و فکر کا دروازہ بڑی خوبصورتی سے بند کر دیا ہے۔
بہر حال یہ امر واقعہ ہے کہ تمام روحیں عالم ارواح میں موجود ہیں اور اللہ جل شانہ کے حکم کے ذریعے اپنے اپنے وقت پر مادی دنیا کا سفر اختیار کرتی ہیں۔ ہر روح پہلے کسی نہ کسی شکل میں پشت پدر میں داخل ہوتی ہے۔ وہاں سے شکم مادر میں منتقل ہوجاتی ہے ۔
اور ایک رائے یہ بھی ہے کہ جب حمل قرار پاتا ہے تو چوتھے مہینے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس لوتھڑے میں جان یعنی روح ڈالی جاتی ہے۔ اور پھر نوماہ ماں کے پیٹ میں پرورش پاکر جسمانی لباس اختیار کرتی ہوئی اس دنیا میں نمودار ہوجاتی ہے۔ اس دنیا میں آنے کے بعد والدین کی پرورش سے بچپن اور لڑکپن کی منازل طے کرتی ہے۔ پھر عقل و فہم کی دولت سے نوازا جاتا ہے تاکہ اپنے طبعی ادراک اور فہم سے رب کائنات کو پہچان کر اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی زندگی اختیار کر سکے۔
لیکن جوانی میں نفسیاتی خواہشات اس کے نفس کو دنیا کی رنگینیوں میں ایسے الجھا لیتی ہیں کہ وہ راہِ راست سے بھٹک جاتاہے۔ اس کی اصلاح کیلئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اس دنیا میں مبعوث فرمایا تاکہ بنی نوع انسان کو رشدو ہدایت کا درس دیا جاسکے۔ شیطان بھی اس دنیا میں انسانوں کو ورغلانے اور گمراہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس لئے انسانوں کی کثیر تعداد نفس اور شیطان کے زیر اثر کفرو الحاد میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ جبکہ بہم کم لوگ راہ حق اختیا رکرکے اخروی زندگی کو کامیاب بنانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔
یاد رہے کہ روح جب اپنے مادی جسم کا لباس اوڑھتی ہے اور اس دنیا میں جلوہ افروز ہوتی ہے تو اس کیلئے اللہ تعالیٰ نے اس دنیامیں رہنے کا ایک وقت مقرر کیا ہے جو اُس ذات پاک کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ جونہی وہ مدت پوری ہوتی ہے تو یہ روح اس جسم کو الوداع کہہ دیتی ہے۔ یہی موت ہے۔ اس موت کے انعقاد میں نہ تاخیر ممکن ہے اور نہ تقدیم، کما قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید۔
اعتبارِ دوم سے روح اور اس کی حقیقت
قول حضرت جنید:
حضرت جنید فرماتے ہیں کہ روح ایک ایسی چیز ہے کہ جس کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی پاس رکھا ہے اور اس نے اپنی مخلوق سے کسیکو اس کی اطلاع نہیں دی۔ اور اس کے متعلق ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا ہے قل الروح من امر ربی۔
قول ابی عبداللہ بناجی :
حضرت ابو عبداللہ فرماتے ہیں کہ روح ایک ایسا لطیف جسم ہے کہ محسوس نہیں ہوسکتا اور چھونے میں نہیں آتا اور فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ فرمان خداوندی ہے قل الروح من امر ربی۔
قول ابن عطا :
ابن عطا فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارواح کو اجسام سے پہلے پیدا فرمایا ہے جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے ولقد خلقنا کم ثم صورنا کم اس آیت میں خلقت سے مراد روح ہے اور صورت سے مراد جسم ہے۔
قول سہل :
یہ فرماتے ہیں کہ روح ایک لطیف شے ہے جو ایک کثیف شے میں قائم ہے ۔ جس طرح بینائی ایک جومرلطیف ہے جوکثیف چیز میں پائی جاتی ہے۔
قولِ جمہور:
جمہور کا اس پر اجماع ہے کہ روح ایک معنوٰ چیز ہے جس سے جسم زندہ ہوتاہے۔
روحانیت عندالصوفیہ
ریاضتیں اور مجاہد ے کرنے والے مردان طلب جب اپنے جسموں کو بھوکا رکھ کر نفسانیت پر ذکر کی دو دھاری تلوار چلاتے ہیں تو ان کے اعضاء روحانیہ طاقت والے ہوجاتے ہیں اور ان کے اسرار معارف الٰہیہ سے چمک جاتے ہیں اور قلوب باطن پر لطائف کے الہامات نازل ہوتے ہیں۔
روحانیت مع الدرجات و طرق الاکتسابات
جب سالک اپنی ہستی اور خود پرستی کے حجاب سے باہر نکل آتا ہے تو اس کی باطنی آنکھ معرفت کے کحل الجواہر سے سرمگین ہوجاتی ہے۔ تو آیت کریمہ وفی انفسکم افلا تبصرون۔ کے مطابق اس کے نفس میں ودیعت شدہ آیات کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے بعد من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کے تقاضے کے مطابق بارگاہِ قدس میں داخل ہوجاتاہے۔
شیخ المشائخ حضرت خواجہ محمد باقر بن شرف الدین لاہوری عباسی حسینی ۔ خلیفہ مجاز عروۃ الوثقیٰ حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی قدس سرہ فرماتے ہیں واضح ہو کہ انسان جوکہ عالم صغیر ہے دس اجزاء سے مرکب ہے ۔ جن اجزاء کے اصول عالم کبیر میں ہیں اور عالم کبیر مجموعہ کائنات ہے۔ خواہ اس کا تعلق عالم خلق سے ہے یا عالم امر سے ۔ ان اجزاء میں سے پانچ عالم خلق سے تعلق رکھنے والے ہیں جوکہ نفس اور اربعہ عناصر (ہوا، آگ، پانی اور مٹی ) ہیں اور عالم امر سے تعلق رکھنے والے بھی پانچ ہیں اور وہ یہ ہیں۔ نمبر 1 قلب ، نمبر 2 روح ، نمبر 3 سر، نمبر 4 خفی ، نمبر 5 اخفی
جیسا کہ چار عناصر کے اصول عالم خلق میں موجود ہیں اسی طرح لطائف خمسہ کے اصول عالم امر یعنی فوق العرش ولا مکاں میں ثابت و مستحق ہیں۔
عرش اعظم کے اوپر اور دوسرے اصول کے نیچے اصل قلب ہے اسی لئے قلب کو عالم خلق اور عالم امر کے درمیان برزخ بھی کہتے ہیں۔ اصل قلب سے اوپر اصل روح ہے اور اس کے اوپر اصل سر۔ اس سے بلند اصل خفی اور اس سے بلندی میں اصل اخفی ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی بالغ حکمت کے مقتضیٰ کے مطابق انسان کو اس انداز میں مرکب کرنا چاہا تو جسم کو درست کرنے کے بعد ان لطائف خمسہ کا اس جسمانی عنصر کے ساتھ تعلق اور عشق پیدا کرتے ہوئے انہیں فوق عرش سے نیچے لاتے ہوئے ہر ایک کے مناسب مقام پر اسے قرار بخش دیا۔
لطیفئہ قلب:
لطیفئہ قلب کو بائیں پستان کے نیچے صنوبری شکل کے گوشت کے ٹکڑے میں جگہ عنائت فرمائی۔ اسے صنوبری اس بناء پر کہتے ہیں کہ یہ صنوبر (گاجر) کی طرح مقلوب (اُلٹا لٹکا ہوا) ہے۔ اس لطیفہ کی اصل الاصل اللہ تعالیٰ کی صفت اضافیہ ہے جسے فعل و تکوین کہتے ہیں۔ اس لطیفہ کا کمال یہ ہے کہ سالک حق تعالیٰ جل جلالہ کے فعل میں فانی و ناپید ہوتے ہوئے اس سے بقا پالیتا ہے اور اس دور میں سالک خود کو مسلوب ا لوصل پاتا ہے اور اپنے کو حق تعالیٰ سے منسوب کرتاہے۔ اسی چیز کو بطور کنا یہ فنائے قلب کہتے ہیں اور اس کی علامت اور دلیل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے غیر کے ساتھ علمی اور حبی تعلق باقی نہیں رہتا اور قلب اللہ تعالیٰ کے ماسواء کو مکمل طور پر فراموش کر دیتا ہے ۔ اس حد تک کہ اگر وہ سالہا سال تک بھی ماسوی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی کوشش کرے اور تکلف سے کام لے تب بھی ماسوی اللہ تعالیٰ ایک لحظہ کیلئے بھی یاد نہیں آئے گا۔ اس وقت جبکہ چیزوں کا علم اس سے زائل ہوجاتاہے تو چیزوں کی محبت بطریق اولیٰ سامانِ سفر باندھ لیتی ہے۔
جب سالک فنائے قلب کی دولت سے مشرف ہوجاتا ہے تو اولیاء کرام کی جماعت میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہ فنائے قلب اس وقت تک میسر نہیں آئے گا۔ جب تک سالک دائرہ امکان (جوکہ مرکز فرش سے عرش اور عالم امر کے منتہیٰ سے عبادت ہے) کو اور صوفیا ء عالی مقام کے بیان کردہ مراتب عشرئہ (توبہ ، انابت ، زہد، ریاضت، ودع، قناعت، توکل ، تسلیم، صبر اور رضا ) کو طے نہیں کرلیتا۔ لطیفہ قلب کے نور کو زرد رنگ کا بیان کرتے ہیں اور اس لطیفہ کی ولایت حضرت سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زیر قدم ہے ۔ جو سالک آدمی المشرب ہوگا اس کو بارگاہ قدس میں وصول اور رسائی اسی لطیفہ سے نصیب ہوگی۔ ماسواء شیخ کامل کی توجہ اور کوشش کے ۔
اس مشرب والے سالک کی ولایت کے پانچ درجوں میں سے ایک درجہ تک وصول کی استعداد حاصل ہوگی ماسوائے اس کے کہ کوئی عارضہ درپیش نہ ہو۔

لطیفہ روح:
لطیفہ روح لطیفہ قلب سے زیادہ لطیف ہے۔ یہ راستبازوں کے زیادہ مناسب تھا۔ اس لئے اسے دائیں جانب پستان کے نیچے جگہ عطا کی گئی ۔ اس لطیفہ کی اصل الاصل حق تعالیٰ شانہ کی صفات ہیں اور فعل الٰہی کی نسبت ایک قدم ذات حق کے زیادہ قریب ہے۔ سالک اس لطیفہ کی فنا (جوکہ صفاتی تجلی سے مربوط ہے)تک وصول کے بعد اپنی صفتوں کو اپنے آپ سے سلب شدہ پاتا ہے بلکہ جناب قدس جل و علا سے منسوب پاتاہے۔ لطیفہ روح کے نور کو سرخ رنگ کا ذکر کرتے ہیں۔ اور اس لطیفہ کی ولایت حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علی نبینا و علیھما الصلوٰۃ والسلام کے زیر قدم ہے جو سالک نوحی اور ابراہیمی مشرب والا ہوگا۔ اس کو اسی لطیفہ کے زریعے بارگاہ قدس میں باریابی نصیب ہوگی۔ جبکہ پہلے مراتب قلب طے کر چکا ہو۔ اس مشرب کے حامل سالک کو ولایت کے پانچ درجوں میں سے دو درجوں کی استعداد حاصل ہوگی۔ جبکہ کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔
لطیفہ سر:
لطیفہ سر لطیفہ روح سے زیادہ لطیف ہے اسے سینہ کے وسط میں روح کی طرف تھوڑی اوپر جگہ دی گئی ہے۔ اس لطیفہ کی اصل الاصل شیونات ذاتیہ ہیں جو کہ ایک قدم مزید ذاتِ واجب الوجود کے قریب ہیں۔ اس لطیفہ کی فنا شیونات ذاتیہ کی تجلی پر موقوف ہے۔ اس لطیفہ کے نور کو سفید رنگ کا نشان دیا گیا ہے۔ اور اس لطیفہ کی ولایت حضرت موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زیر قدم ہے۔ جو سالک موسوی المشرب ہوگا اسے بارگاہِ خداوندی میں وصول اور رسائی اسی لطیفہ کے ذریعے ہوگی۔
پہلے لطائف طے کرنے کے بعد اس مرتبہ کے حامل سالک و لایت پنجگانہ سے تین مرتبوں کے حصول کی استعداد حاصل ہوتی ہے۔ سوائے کسی عارضہ کے۔
لطیفہ خفی:
لطیفہ خفی لطیفہ سر سے زیادہ لطیف ہے۔ اس کا مقام سینہ کے درمیان قلب کی جانب تھوڑا سا بلند ہے۔ اس لطیفہ کی اصل الاصل صفات سلبیہ تنزیہہ ہیں جوکہ شیونات ذاتیہ سے بلند ہیں اس لطیفہ کی فنا انہیں صفات کے وصول سے وابستہ ہیں اور اس لطیفہ کی رنگت سیاہ بیان کرتے ہیں۔ اس لطیفہ کی ولایت حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ کے زیر قدم ہوتا ہے اسے بارگاہ قدس میں رسائی اسی لطیفہ کے ذریعے نصیب ہوتی ہے۔ پہلے لطائف طے کرنے کے بعد کسی رکاوٹ کے بغیر اس مشرب والے سالک کو ولایت کے درجات خمسہ میں سے چار درجات کی استعداد حاصل ہوگی۔
لطیفہ اخفیٰ:
یہ لطیفہ عالم امر کے تمام لطائف میں سے زیادہ حسین و جمیل اور ذات کبریائی کے زیادہ قریب ہے اور حضرت جمال کے ساتھ مناسبت نامہ رکھتاہے۔ اسے سینہ کے وسطِ حقیقی میں جگہ عطا کی گئی ہے۔ اس لطیفہ کی اصل الاصل کے وہ مرتبہ ہے جو تنزیہیہ اور احدیت مجردہ کے درمیان برزخ کی مانند ہے۔ اس لطیفہ کی فنا اسی مرتبہ مقدسہ کی تجلی کے ساتھ مربوط ہے۔ اس نفیس لطیفہ کو سبزرنگ کا بیان کرتے ہیں اور اس لطیفہ شریفہ کی ولایت سرور کونین حضرت جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر قدم ہے۔ اس مرتبہ عالیٰ والے سالک کی ولایت کے پانچوں مراتب کے حصول کی بالذات استعداد حاصل ہوتی ہے۔