روحانیت کے مراتب کے حصول کیلئے علم، عمل اور تقویٰ ضروری ہے
یہ ضروری چیز ہے کہ احکام شریعت کا علم ہوگا تو شرع شریف پر عمل ہوگا ورنہ نہیں اور تقویٰ کیلئے بھی اس کا ہونا ضروری امر ہے۔ لہذا بجائے اس کے کہ ان پر تفصیلی گفتگو کروں تقویٰ کے متعلق بالکل اختصار کے ساتھ کچھ عرض گزار ہوتاہوں۔
تقویٰ کا مطلب ہے پرہیز گاری اور ترک معاصی
جب انسان اور امر و نواہی پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارتا ہے اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے تقویٰ اختیار ہے۔ تقویٰ اصل میں اسلام کا رکن اعظم ہے اور عبادات کی روح ہے۔ تقویٰ کے بغیر کوئی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول نہیں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ ایمان اور تقویٰ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔
ارشادِ خدا وندی ہے ۔ فان خیر الزاد التقویٰ ۔ یعنی تقویٰ بہرین توشہ ہے۔
مقام آخر پر ارشادِ خداوندی ہے ولباس التقویٰ ذالک خیر ۔ یعنی تقویٰ کا لباس دراصل سب سے بہتر لباس ہے
اسی لئے کہا گیا ہے کہ شرِ شیطان اور وسوسوں سے بچنے کیلئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کیا جائے۔
تقویٰ اور ارشادات خداوندی
نمبر 1۔ واتقو اللہ واعلموا ان اللہ مع المتقین ۔ تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ اللہ متقین کے ساتھ ہے
نمبر 2۔ اولیک ھم المتقون ۔ وہی صاحب تقویٰ ہیں۔
نمبر 3۔ والزھم کلمۃ التقویٰ ہم نے ان پر تقویٰ کا کلمہ لازم کر دیا
نمبر 4۔ واتقو اللہ ویعلحکم ۔ اللہ سے ڈرو وہ تم کو علم عطا کرے گا۔
نمبر 5۔ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا۔ جس نے تقویٰ اختیار کیا اس کیلئے اللہ آسانیاں پیدا کردیتا ہے
نمبر 6۔ یا ایھاالذین امنو اتقو اللہ حق تقتہ ۔ تقویٰ کا حق ادا کرو۔
نمبر 7۔ ومن یتق اللہ یکفر عنہ سیاتہ۔ تقویٰ سے گناہ دور ہوتے ہیں
نمبر 8۔ ان اولیاوء المتقون ۔ اللہ کے نزدیک اولیاء وہی ہیں جو متقی ہیں
ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ تقویٰ ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ولی ہونے کی علامت ہے۔
جہلاء ، جعل ساز، گذاب روحانیت کے دعوے دار غورکریں

جو لوگ تارک الصلوٰۃ اور اوامرونواہی کی پابندی سے اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہوئے ولایت کا دعویٰ کرتے ہیں وہ جھوٹے اور جعل ساز ہیں ان سے اور ان کی صحبت سے تیر کی طرح بھاگنا چاہئے کیوںکہ ایسے لوگ ایمان کو خراب کر دیتے ہیں ۔ حضرت شیخ علیہ الرحمہ نے صحبت جھلا ء سے روکنے میں کتنی تاکید فرمائی ہے۔
            دلا گرخرد مندی و ہوشیار                                                                        اے دل اگر تو عقلمند اور ہوشیار ہے
مکن صحبت جاہلاں اختیار                                                               مت کر جاہلوں کی صحبت اختیار
زجاہل گریزندہ چوتیر باش                                                                تیر کی طرح جاہل سے بھاگنے والا ہو
نیا میختہ چوں شکر شیر باش                                                           شکر اور دودھ کی طرح ملا ہوا نہ ہو
ترا اژد ہا گر بودیا ر غار                                                                   اگر سانپ تیرا پکا دوست ہو
ازاں یہ کہ جاہل بودغم گسار                                                              غم خوار جاہل سے بہتر ہے
اگر خصم جان تو عاقل بود                                                                 اگر تیری جان کا دشمن عقلمند ہو
بہ از دو ستدار ریکہ جاہل بود                                                             تو جاہل دوست سے بہتر ہے
           چوجاہل کسے در جہاں خوارنیست                                                        جہان میں جاہل کی طرح کوئی ذلل نہیں ہے
کہ ناداں تراز جاہلی کارنیست                                                              اور سب سے زیادہ نادان جاہل ہے
       زجاہل نیاید جز افعال بد                                                                      برے کاموں کے علاوہ جاہل کے پاس کچھ نہیں
وزو نشنود کس جزا قوال بد                                                     اور جب بھی اس سے کوئی سنے گا تو بری بات ہی سنے گا
                                        سر انجام جاہل جہنم                                                                            جاہل انجام دوزخ ہے
          کہ جاہل نکو عاقبت کم بود                                                                  کیونکہ جاہل اچھی آخرت والا بہت کم ہوتاہے
                       سر جاہلاں بر سردار                                                                          بہ جاہلوں کا سر سولی پر بہتر ہے
                   کہ جاہل بخواری گرفتار                                                                       بہ اور جاہل ذلت میں گرفتار بہتر ہے
                            زجاہل حزر کردن اولیٰ بود                                                                    جاہل سے پرہیز کرنا بہتر ہے
کزوننگ دنیا و عقبے بود                                                               کیوں کہ اس سے دنیا اور آخرت کی شرمساری ہوتی ہے
ایک عالم اور متقی شخص یہ جانتا ہے کہ بروں کی صحبت سے نہ صرف دنیاوی نقصان ہوتاہے بلکہ آخرت بھی برباد ہوجاتی ہے۔ قیامت کے دن گناہگار اس بات پر افسوس اور ندامت کا اظہار کریں گے کہ کاش ہم اس نیکو کار سے ہم نشینی اور دوستی کرتے اور فلاں گناہگار کی صحبت سے بچتے۔ لیکن اس وقت بجز ندامت اور ذلت کے ان کو کچھ حاصل نہ ہوگا۔
مزید برآں ارشادِ خداوندی

الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ۔ الذین آمنو ا وکانوا یتقون۔ لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرہ لا تبدیل لکلمت اللہ ذالک ھو الفوز العظیم۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بالترتیب تین چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ۔
نمبر 1۔ اولیا ء اللہ کی شان
نمبر 2۔ اولیا ء اللہ کی پہچان
نمبر 3۔ اولیاء اللہ کا انجام
چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ خبردار ہو جائے آگاہ ہو جائو کہ اللہ تعالیٰ کے ولیوں پر کوئی کوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ کیونکہ وہاللہ تعالیٰ کے ولی ہیں ۔ تواللہ تعالیٰ انکا ولی ہے۔ خود فرماتا ہے اللہ ولی الذین آمنو ا کہ اللہ تعالیٰ ولی ہے ایمان والوں کا ۔ اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اوراللہ تعالیٰ انکا محبوب ہے۔ خود ارشاد فرماتا ہے ۔یحبھم ویحبونہ کہ اللہ تعالیٰ انکو محبوب رکھتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو محبوب رکھتے ہیں۔
اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے ذاکر اوراللہ تعالیٰ ان کا ذاکر ارشاد فرماتا ہے۔
فاذ کرونی اذ کرکم تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔ اور فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے من کان اللہ کان اللہ لہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ اس کا ہوجاتاہے۔ تو وہ اللہ کے ولی اللہ انکا ولی وہ اللہ کے محبوب اللہ ان کا محبوب ۔ وہ اللہ کے ذاکر اللہ ان کا ذاکر۔ وہ اللہ کے ہوگئے اللہ ان کا ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دونوں جہانوں میں بے خوف اور بے غم کردیا۔ یہ اللہ والوں کی عظمت و شان ہے۔
الذین آمنو و کانوا یتقون میں پہچان اولیاء کرام
کہ اولیاء اللہ وہ ہیں جو ایماندار بھی ہوتے ہیں اور پرہیز گار بھی ہوتے ہیں تویاد رکھوکہ ولی اللہ تعالیٰ کیلئے مومن ہونا اور متقی ہونا شرط ہے۔ جو مومن نہیں وہ بھی اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔ اور جو متقی پرہیز گار نہیں وہ بھی اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔ بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ اولیاء اللہ ہر قوم میں ہوتے ہیں ہندئوں میں ھی سکھوں میں بھی یہ غلط ہے۔ اولیا ء اللہ صرف مومنوں میں ہی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ ولی اللہ کیلئے مومن ہونا شرط ہے اور ایمان عقائد کے صحیح ہونے کانام ہے توپتہ چلا کہ اللہ کا ولی وہی ہوسکتا ہے جس کے تمام عقائد صحیح ہوں ۔ ایمان اور عقائد کی درستگی کے ساتھ فرمایا۔ وکانو ا یتقون۔
شریعت کے دشمن، بھنگی چرسی اولیاء الشیطان ہیں
یتقون مضارع کا صیغہ ہے اور اس پر کانوا داخل ہے اور یہ قانون ہے کہ مضارع پر جب کان داخل ہو جائے تو ماضی استمراری بن جاتی ہے یعنی دوام اور استمرار کا مفہوم ظاہر ہوتاہے ۔ تو معنیٰ و مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے ولی وہ ہوتے ہیں جو ہمیشہ تقویٰ وپرہیز گاری اختیار کرتے ہیں یعنی انکو جب بھی دیکھو گے نیکی اور بھلائی کرتے ہوئے دیکھو گے۔ کبھی انکو فسق و فجور میں مبتلانہیں دیکھو گے ۔ تو

معلوم ہوا کہ جو بھنگی چرسی لوگ پھرتے ہیں بڑی بڑی موچھوں والے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بھاری اور پیاری سنت داڑھی شریف کے قاتل خشخشی رکھنے والے منڈوانے والے بے علم بے عمل بے شرم بے حیاء جاہل لوٹ مار کرنے والے ماتھے کا ستارہ دیکھنے کے بہانے عورتوں کے نقاب اتروانے والے غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین کے کھانے والے بے ایمان بے دین لعنی خبیث فنکار ڈرامے باز کوئی کرنی والی سرکار کوئی بھرنی والی سرکار کوئی انڈے والا بابا ، کوئی ڈنڈے والا بابا کوئی سوئی والا بابا ، کوئی ڈولی والا بابا ، کوئی فٹافٹ کوئی چٹاپٹ نہ نماز کا عمل نہ علم نہ روزہ کا عمل نہ علم نہ وضو کا عمل نہ علم ، نہ غسل کا عمل نہ علم ، جہنم کا ایندھن نعرے لگاتے ہیں دمادم نہ دھوکہ نہ غم کمائے گی دنیا کھائیں گے ہم یہ سب مکرو فریب کے پلندے ہیں خدا کی زمین بھی ایسے منحوس بھیڑیوں سے پناہ مانگتی ہے حضرت سلطان نے سچ فرمایا باجھ علموں جوکرے فقیری کافر مرے دیوانہ ہو۔
کہاں ہے ایسے لوگوں کے پاس مسائل کا حل
کہاں ہے ایسے لوگوں کے پاس شفاء
کہاں ہے ایسے لوگوں کے پاس ہدایت
کہاں ہے ایسے لوگوں کے پاس راہ نمائی
کہاں ہے ایسے لوگوں کے پاس مشکلات کا حل
کہاں ہے ایسے لوگوں کے پاس بھلائی
کہاں ہے ایسے لوگوں کے پاس اطمینان قلب
کہاں ہے ایسے لوگوں کے پاس روحانیت
کہاں ہے ایسے لوگوں کے پاس رزق کی فراوانی
جو خود بے علم جاہل ہے وہ دوسرے کو کیسے اہل علم بنائے گا
جو خود بد عمل ہو وہ دوسرے کو کیسے عامل بنائے گا
جو خود غافل ہو وہ دوسرے کو کیسے بیدا رکرے گا
جو خود شیطانی ہو وہ دوسرے کو کیسے رحمانی بنائے گا
جو خود تارک الصلوٰۃ ہو وہ دوسرے کو کیسے پابند صوم و صلوٰۃ بنائے گا
جو خود زانی شرابی ہوں ان کے صحبت یافتہ کیسے متقی بنیں گے
یاد رکھو اللہ کے ولی کیلئے جس طرح مومن ہونا شرط ہے اسی طرح متقی پرہیز گار ہونا بھی شرط ہے۔ یوں کہو کہ اللہ کا ولی وہ ہوتاہے جس کا ظاہر بھی درست ہو اور باطن بھی درست ہو روشنی تبھی ملتی ہے ۔
لائٹ کے روشنی دینے کیلئے ظاہری فٹنگ اور باطنی تعلق دونوں کا درست ہونا ضروری ہے۔ اگر باطنی تعلق صحیح ہو اور ظاہری فٹنگ میں ذرا سا فرق آجائے یعنی ٹیوب لائٹ کو ذرا سا ہلا دیا جائے تب بھی اندھیرا ہو جائے گا روشنی حاصل نہیں ہوگی۔
اسی طرح اگر فٹنگ درست ہو مگر باطنی تعلق درست نہ ہو پھر بھی روشنی حاصل نہیں کر سکیں گے ۔
تو روشنی اس وقت حاصل ہوگی جبکہ ظاہری فٹنگ بھی درست ہو اور باطنی تعلق بھی درست ہو۔
لہذا اس ولی سے ایمان اور ہدایت کی روشنی ملتی ہے جس کا ظاہر عین شریعت ہو اور باطب عین طریقت ہو یعنی ظاہراً صحیح شریعت کا پابند ہو اور باطناً سرکار ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہو۔ لبوں پر فرمان رسول اللہ ہو ۔ دل میں فیضان رسول ہو۔
بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی ظاہری فٹنگ درست ہوتی ہے ان کی داڑھیاں دیکھو ان کے لباس دیکھو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیخ الاسلام ہے مگر باطنی تعلق صحیح نہیں ہوتا۔ تو انکا کیا حال ہوتاہے۔ ا ن کی زبان پر تو ہوتا ہے قال قال اور اندر سے دل ہوتاہے کالا کالا۔
ظاہری فٹنگ درست ہے مگر کملی والے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق درست نہیں لہذا روشنی نہیں آرہی تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے اور جہاں اندھیرا ہو وہاں کالا کالا ہی ہوتاہے ۔ تو روز روشن کی طرح واضح ہوا کہ روشنی اُس سے ملتی ہے جس کا ظاہر بھی درست ہو اور باطن بھی درست ہو اسی واسطے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کے ولی وہ ہوتے ہیں جو مومن بھی اور متقی بھی ہوتے ہیں۔
لھم البشریٰ فی الحیوہ الدنیا وفی الآخرہ میں انکا انجام:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اولیاء کا ملین کا انجام بیان فرمایا ہے ۔ فرمایا خوشخبری ہے ان کیلئے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں لاتبدیل لکلمت اللہ ۔ اللہ کی باتیں بدلتی نہیں ہیں۔
ہو سکتا تھا کہ خوشخبری میں کوئی شبہ کرتا کوئی شک کرتا تو ارشاد ہوا کہ یہ خوشخبری اس کی طرف سے ہے جس کی باتیں بدلتی نہیں ہیں۔
ذالک ھو الفوذ العظیم
اللہ فرماتا ہے یہ ہے بڑی کامیابی۔
اس کے متعلق میں ایک بات عرض کروں گا کہ دیکھئے کہ ہر مسلمان کا اس بات پر یقین ہے کہ زندگیاں دو ہیں۔ ایک ہے دنیا کی زندگی اور ایک ہے آخرت کی زندگی۔ اور یہ بات بھی مستحقق ہے کہ اصل زندگی آخرت کی ہے دنیا کی زندگی فانی ہے۔ اور آخرت کی زندگی دائمی ہے ابدی ہے وہاں موت کا وجود ہی نہیں ہوگا ۔ خود موت کو موت آجائے گی وہاں کی زندگی دائمی زندگی ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے خالدین فیھا ابدا ۔ کہ ایمان و اعمال والے جنت میں جائیں گے تو ہمیشہ جنت میں رہیں گے ۔ تو بتائیے اگر کوئی آخرت کی زندگی میں ناکام ہوجائے ذلیل وخوار ہو جائے تو آپ اس کو کامیاب کہیں گے ؟ نہیں ہر گز نہیں کیوں کہ اصل زندگی تو وہ ہے جب اس زندگی میں ناکام ہوگیا تو وہ کامیاب نہیں ہے۔ اصل میں کامیاب وہ ہے جو آخرت میں کامیاب ہے۔ لیکن جو دنیا میں بھی کامیاب ہو آخرت میں بھی کامیاب ہو یہاں بھی معزز وہاں بھی معزز ہو ۔ یہاں بھی اس کے حصے میں نیکی آئے اور بھلائی آئے آخرت میں بھی اس کے حصے میں نیکی اور بھلائی آئے تو یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور یہ کامیابی حاصل کی تو اولیاء کرام نے حاصل کی۔
تو معلوم ہوا کہ جو حقیقی اللہ والے ہیں وہ اصحاب علم اصحاب عمل اور پابند شریعت صاحب ایمان اور صاحب فیضان ہوتے ہیں ان کو خود بھی اللہ تک رسائی ہوتی ہے اور ان کی صحبت اختیار کرنے والے بھی اللہ تک پہنچ جاتے ہیں۔
اللہ اللہ کئے جانے سے اللہ نہ ملے اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملادیتے ہیں
بے ایمان اور بے عمل جھوٹے ولایت و روحانیت کے دعویدار
دونوں جہانوں میں خود بھی ناکام اور خسارے میں اور ان کی صحبت اختیار کرنے والے بھی ناکام اور خسارے میں۔
ضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کا قول
آپ فرماتے ہیں الطرق کلھا مسدودۃ علی الخلق الاعلی من قتفی آثار الرسول ۔
کہ مخلوق کیلئے اللہ کی طرف جانے والے سارے راستے بند ہیں۔ صرف اُسی کیلئے کھلتے ہیں ۔ جو سنت نبوی کی پیروی کرتاہے۔ معلوم ہوا کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کوئی بندہ خدارسیدہ یا صوفی و ولی نہیں بن سکتا۔
شریعت طریقت سے جدا نہیں اور طریقت شریعت سے جدا نہیں تمام مدارج عالیہ کی ابتداء شریعت سے اور انتہا قرب الٰہی ہے