اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینا نہایت اچھا کام ہے ، مال سے تم کو فائدہ نہ پہنچا تو تمہارے کیا کام آیا اور اپنے کام کا وہی ہے جوکھا پہن لیا یا آخرت کیلئے خرچ کیا ، وہ نہ کہ جمع کیا اور دوسروں کیلئے چھوڑ گئے۔ اس کے فضائل میں چند حدیثیں سنیئے اور ان پر عمل کیجئے ، اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے۔
حدیث نمبر 1:
صحیحین میں ابوہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :’’بنی اسرائیل میں تین شخص تھے ۔ ایک برص والا، دوسرا گنجا ، تیسرا اندھا۔ اللہ عزوجل نے ان کا امتحان لینا چاہا ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا ، وہ فرشتہ برص والے کے پاس آیا ۔ اس سے پوچھا ، تجھے کیا چیز زیادہ محبوب ہے ؟ اس نے کہا: اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور یہ بات جاتی رہے، جس سے لوگ گھن کرتے ہیں۔ فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا ، وہ گھن کی چیز جاتی رہی اور اچھارنگ اور اچھی کھال اسے دی گئی ، فرشتے نے کہا : تجھے کونسا مال زیادہ محبوب ہے؟ اُس نے اونٹ کہا یا گائے (راوی کا شک ہے ، مگر برص والے اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کہا، دوسرے نے گائے ) ۔ اسے دس مہینے کی حاملہ اونٹنی دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ تیرے لئے اس میں برکت دے۔
حدیث نمبر 2:
صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’بندہ کہتا ہے ، میرا مال ہے ، میرا مال ہے اور اُسے تو اس کے مال سے تین ہی قسم کا فائدہ ہے، جو کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر پرانا کر دیا، یا عطا کرکے آخرت کیلئے جمع کیا اور اُس کے سوا جانے والا ہے کہ اوروں کیلئے چھوڑ جائے گا۔‘‘
حدیث نمبر 3:
بخاری و نسائی ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسم ) فرماتے ہیں: ’’ تم میں کون ہے کہ اُسے اپنے وارث کا مال ، اپنے مال سے زیادہ محبو ب ہے؟ صحابہ نے عرض کی ، یا رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) ! ہم میں کوئی ایسا نہیں ، جسے اپنا مال زیادہ محبوب نہ ہو۔ فرمایا: اپنا مال تو وہ ہے ، جو آگے روانہ کر چکا اور جو پیچھے چھوڑ گیا، وہ وارث کا مال ہے۔
حدیث نمبر 4:
امام بخاری ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ وسلم فرماتے ہیں: ’’ اگر میرے پاس اُحد برابر سونا ہو تو مجھے یہی پسند آتا ہے کہ تین راتیں نہ گزرنے پائیں اور اُس میں کا میرے پاس کچھ رہ جائے، ہاں اگر مجھ پر دین ہوتو اس کیلئے

کچھ رکھ لوں گا۔ ‘‘
حدیث نمبرور 6:
صحیح مسلم میں انہیں سے مروی ، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کوئی دن ایسا نہیں کہ صبح ہوتی ہے، مگر دو فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان میں ایک کہتا ہے ، اے اللہ (عزوجل )! خرچ کرنے والے کو بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے، اے اللہ (عزوجل )! روکنے والے کے مال کو تلف کر۔ ‘‘ اور اسی کے مثل امام احمد و ابن حبان و حاکم نے ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔
حدیث نمبر 7:
صحیحین میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا : ’’ خرچ کر اور شمار نہ کر کہ اللہ تعالیٰ شمار کرکے دے گا اور بند نہ کر کہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ پر بند کردے گا۔ کچھ دے جو تجھے استطاعت ہو۔ ‘‘
حدیث نمبر 8:
نیز صحیحین میں ابوہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرماتے ہیں: کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ ‘‘
حدیث نمبر 9:
صحیح مسلم و سنن ترمذی میں ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابن آدم ! بچے ہوئے کا خرچ کرنا ، تیرے لئے بہتر ہے اور اُس کا روکنا ، تیرے لئے برا ہے اور بقدر ضرورت روکنے پر ملامت نہیں اور اُن سے شروع کر جو تیری پرورش میں ہیں۔‘‘
حدیث نمبر 10:
صحیحین میں ابوہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو شخصوں کی ہے جو لوہے کی زرہ پہنے ہوئے ہیں ، جن کے ہاتھ سینے اور گلے سے جکڑے ہوئے ہیں تو صدقہ دینے والے نے جب صدقہ دیا زرہ کشادہ ہوگئی اور بخیل جب صدقہ دینے کا ارادہ کرتاہے ، ہر کڑی اپنی جگہ کو پکڑ لیتی ہے وہ کشادہ کرنا بھی چاہتا ہے تو کشادہ نہیں ہوتی۔ ‘‘
حدیث نمبر 11:
صحیح مسلم جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ـ : ’’ ظلم سے بچو کہ ظلم قیامت کے دنتاریکیاں ہے اور بخل سے بچو کہ بخل نے اگلوں کو ہلاک کیا، اسی بخل نے اُنہیں خون بہانے اور حرام کو حلال کرنے پر آمادہ کیا۔‘‘
حدیث نمبر 12:
نیز اُسی میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) کس صدقہ کا زیادہ اجر ہے؟ فرمایا: اس کا کہ صحت کی حالت میں ہو اور لالچ ہو، محتاجی کا ڈر ہواور تو نگری کی آرزو، یہ نہیں کہ چھوڑے رہے اور جب جان گلے کو آجائے تو کہے اتنا فلاں کو اور اتنا فلاں کو دینا اور یہ تو فلاں کا ہو چکا یعنی وارث کا ۔ ‘‘
حدیث نمبر 13:
صحیحین میں ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، کہتے ہیں میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کعبہ معظمہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے، مجھے دیکھ کر فرمایا: قسم ہے رب کعبہ کی ! وہ ٹوٹے میں ہیں۔ میں نے عرض کی ، میرے باپ ماں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر قربان وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: زیادہ مال والے ، مگر جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کرے آگے پیچھے دہنے بائیں یعنی ہر موقع پر خرچ کرے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ ‘‘
حدیث نمبر 14:
سنن ترمذی میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، کہحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سخی قریب ہے اللہ (عزوجل) سے ، قریب ہے جنت سے ، قریب ہے آدمیوں سے ، دور ہے جہنم سے اور بخیل دور ہے اللہ (عزوجل ) سے ، دور ہے جنت سے ، دور ہے آدمیوں سے ، قریب جہنم سے اور جاہل سخی اللہ (عزوجل ) کے نزدیک زیادہ پیارا ہے ، بخیل عابد سے ۔‘‘
حدیث نمبر 15:
سنن ابودائود میں ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آدمی کا اپنی زندگی (یعنی صحت) میں ایک درم صدقہ کرنا، مرتے وقت کے سودرہم صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘
حدیث نمبر 16:
امام احمد ونسائی و دارمی و ترمذی ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو شخص مرتے وقت صدقہ دیتا یا آزاد کرتا ہے، اُس کی مثال اُس شخص کی ہے کہ جب آسودہ ہولیا تو ہدیہ کرتاہے۔ ‘‘
حدیث نمبر 17:
سنن ترمذی سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےفرمایا تمہیں اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔ نیک بات کا حکم کرنا بھی صدقہ ہے۔ بری بات سے منع بھی صدقہ ہے۔ راہ بھولے ہوئے کو راہ بتانا بھی صدقہ ہے۔ راستہ سے پتھر، ہڈی ، کانٹا ہٹانا صدقہ ہے۔ اپنے ڈول میں سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈالنا بھی صدقہ ہے۔
حدیث نمبر 18:ـ
امام احمد بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کا سایہ اسکا صدقہ ہوگا۔
حدیث نمبر 19:
امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ معاذ سے راوی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ خطا کو ایسے دور کرتاہے۔ جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔
حدیث نمبر 20:
ابو مسعود سے صحیحین میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان جو کچھ مسلمان پر خرچ کرتا ہے اگر ثواب کیلئے کرتا ہے تو صدقہ ہے۔
حدیث نمبر 21:
طبرانی کبیر میں رافع بن فریج سے راوی ہے کہ رسول اکرم فرماتے ہیں کہ صدقہ برائی کے ستر دروازوں کو بند کرتاہے۔